سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنبياء 21:54

21:54
قال لقد كنتم انتم واباوكم في ضلال مبين ٥٤
قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمْ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٥٤
قَالَ
لَقَدْ
كُنْتُمْ
اَنْتُمْ
وَاٰبَآؤُكُمْ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
ابراہیم ؑ نے کہا : پھر تو تم بھی اور تمہارے آباء و اَجداد بھی یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قال لقد۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (45) ’ ‘۔

محض آبائو اجداد کی جانب سے بتوں کی پوجا ہونا ‘ ان کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو نہیں بدل سکتا۔ نہ ان کو وہ تقدس دے سکتا ہے جو دراصل ان کو حاصل نہ ہو۔ کیونکہ قدریں محض آبائو اجداد کے عمل سے وجود میں نہیں آتیں ‘ بلکہ سچائی اور افادیت سے بنتی ہیں اور آزادانہ سوچ سے ان کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے۔

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت بےباکی سے یہ باتیں کیں اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور دو ٹوک بات کی تو ان کے عقائد کی دنیا میں زلزلہ آگیا اور پوچھنے لگے۔