سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنبياء 21:66

21:66
قال افتعبدون من دون الله ما لا ينفعكم شييا ولا يضركم ٦٦
قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَا يَضُرُّكُمْ ٦٦
قَالَ
اَفَتَعْبُدُوْنَ
مِنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
مَا
لَا
یَنْفَعُكُمْ
شَیْـًٔا
وَّلَا
یَضُرُّكُمْ
۟ؕ
ابراہیم ؑ نے کہا : تو کیا تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تو تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ ہی تمہارا کچھ نقصان کرسکتی ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 21:66 سے 21:67 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قال افتعبدون۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (66 : 76) ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سے ان کی دل تنگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قدرے غصے میں نظر آتے ہیں اور ان کو سخت تعجب ہے کہ یہ لوگ اس قدر پوچ اور غیر معقول فکر و عمل میں پڑے ہوئے ہیں۔

اب ان لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی اب انہیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کا حال اس شخص جیسا ہوگیا جس کے پاس دلیل کچھ نہ ہو ‘ اور دلیل کی کمزوری اور کمی وہ تشدد کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی اب تشدد پر اتر آئے اور یہ فیصلہ کیا۔