سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنفال 8:67

8:67
ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض تريدون عرض الدنيا والله يريد الاخرة والله عزيز حكيم ٦٧
مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٦٧
مَا
كَانَ
لِنَبِیٍّ
اَنْ
یَّكُوْنَ
لَهٗۤ
اَسْرٰی
حَتّٰی
یُثْخِنَ
فِی
الْاَرْضِ ؕ
تُرِیْدُوْنَ
عَرَضَ
الدُّنْیَا ۖۗ
وَاللّٰهُ
یُرِیْدُ
الْاٰخِرَةَ ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ وہ (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں خوب خونریزی نہ کر دے تم دنیا کا سازو سامان چاہتے ہو اور اللہ کے پیش نظر آخرت ہے۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
موجودہ آیت کے لیے Tafsir Fathul Majid دستیاب نہیں ہے۔