سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: العنكبوت 29:10

29:10
ومن الناس من يقول امنا بالله فاذا اوذي في الله جعل فتنة الناس كعذاب الله ولين جاء نصر من ربك ليقولن انا كنا معكم اوليس الله باعلم بما في صدور العالمين ١٠
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ وَلَئِن جَآءَ نَصْرٌۭ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ أَوَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٠
وَمِنَ
النَّاسِ
مَنْ
یَّقُوْلُ
اٰمَنَّا
بِاللّٰهِ
فَاِذَاۤ
اُوْذِیَ
فِی
اللّٰهِ
جَعَلَ
فِتْنَةَ
النَّاسِ
كَعَذَابِ
اللّٰهِ ؕ
وَلَىِٕنْ
جَآءَ
نَصْرٌ
مِّنْ
رَّبِّكَ
لَیَقُوْلُنَّ
اِنَّا
كُنَّا
مَعَكُمْ ؕ
اَوَلَیْسَ
اللّٰهُ
بِاَعْلَمَ
بِمَا
فِیْ
صُدُوْرِ
الْعٰلَمِیْنَ
۟
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں ایذا پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ کے رب کی طرف سے مدد آجائے یہ ضرور کہیں گے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہی تو تھے تو کیا اللہ بخوبی واقف نہیں ہے اس سے جو جہان والوں کے سینوں میں مضمر ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 29:10 سے 29:11 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

When one who calls himself a believer, or mu’min, shows himself to be such only when some advantage is to be gained, but otherwise recants, he reveals himself to be what the Quran calls a hypocrite, or munafiq. A believer in name only, he is not prepared to pay the price of his faith. He and other people like him fail at the very juncture where they are most required to prove their moral worth.