سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأعراف 7:101

7:101
تلك القرى نقص عليك من انبايها ولقد جاءتهم رسلهم بالبينات فما كانوا ليومنوا بما كذبوا من قبل كذالك يطبع الله على قلوب الكافرين ١٠١
تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ١٠١
تِلْكَ
الْقُرٰی
نَقُصُّ
عَلَیْكَ
مِنْ
اَنْۢبَآىِٕهَا ۚ
وَلَقَدْ
جَآءَتْهُمْ
رُسُلُهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ ۚ
فَمَا
كَانُوْا
لِیُؤْمِنُوْا
بِمَا
كَذَّبُوْا
مِنْ
قَبْلُ ؕ
كَذٰلِكَ
یَطْبَعُ
اللّٰهُ
عَلٰی
قُلُوْبِ
الْكٰفِرِیْنَ
۟
) یہ وہ بستیاں ہیں جن کی کچھ خبریں ہم آپ ﷺ کو سنا رہے ہیں اور ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن نشانیوں کے ساتھ تو وہ نہیں تھے ایمان لانے والے اس پر جس کا انہوں نے پہلے انکار کردیا تھا اسی طرح اللہ مہر کردیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔

وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی فطرت مر چکی تھی ، وہ متاثر ہی نہ ہوتے تھے ، لہذا وہ دعوت کو قبول ہی نہ کرتے تھے۔ جب ان کے دل دلائل ایمان کی طرف متوجہ ہی نہ تھے اور ہدایت کے اشارات ان تک پہنچ ہی نہ پا رہے تھے تو اللہ نے بھی انہیں اس حال پر چھوڑ کر ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے لئے قبولیت حق کے تمام راستے بند ہوگئے۔

كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ " دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں "۔ یہ مزاج ان میں سے اکثریت کا تھا۔