سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأعراف 7:162

7:162
فبدل الذين ظلموا منهم قولا غير الذي قيل لهم فارسلنا عليهم رجزا من السماء بما كانوا يظلمون ١٦٢
فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ ١٦٢
فَبَدَّلَ
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
مِنْهُمْ
قَوْلًا
غَیْرَ
الَّذِیْ
قِیْلَ
لَهُمْ
فَاَرْسَلْنَا
عَلَیْهِمْ
رِجْزًا
مِّنَ
السَّمَآءِ
بِمَا
كَانُوْا
یَظْلِمُوْنَ
۟۠
تو بدل دی ان لوگوں نے جو ان میں سے ظالم تھے اس بات کے بجائے جو ان سے کہی گئی تھی ایک (دوسری) بات جن لوگوں نے وہ لفظ بدلنے کی حرکت کی تھی ان میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اور وہ سب کے سب ہلاک ہوگئے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ ۔ مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی ، بدل ڈالا۔

لہذا اب ان پر عالم بالا کی طرف سے عذاب آتا ہے ، وہ اللہ جو ان پر من وسلوی اتار رہا تھا ، اور ان پر اس کے بھیجے ہوئے بادل سایہ فگن تھے ، اب ان پر عذاب نازل فرما رہا ہے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔

اس طرح ان میں جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفر کیا انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ، کیونکہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے۔ اس بار قرآن مجید نے اس عذاب کی تصریح نہیں کی جو انہیں دیا گیا۔ کیونکہ عذاب کے تعین کے بغیر ہی اس قصے کی غرض وغایت پوری ہوجاتی ہے۔ قصے سے اصل غرض وغایت یہ بتانا ہے کہ اللہ کی معصیت کرنے والے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور اللہ کا ڈراوا حقیقت بن جاتا ہے اور کوئی نافرمان اللہ کے انصاف سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔