سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأعراف 7:164

7:164
واذ قالت امة منهم لم تعظون قوما الله مهلكهم او معذبهم عذابا شديدا قالوا معذرة الى ربكم ولعلهم يتقون ١٦٤
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌۭ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ١٦٤
وَاِذْ
قَالَتْ
اُمَّةٌ
مِّنْهُمْ
لِمَ
تَعِظُوْنَ
قَوْمَا ۙ
للّٰهُ
مُهْلِكُهُمْ
اَوْ
مُعَذِّبُهُمْ
عَذَابًا
شَدِیْدًا ؕ
قَالُوْا
مَعْذِرَةً
اِلٰی
رَبِّكُمْ
وَلَعَلَّهُمْ
یَتَّقُوْنَ
۟
اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ کیوں نصیحت کر رہے ہو ان لوگوں کو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا پھر انہیں عذاب دینے والا ہے بہت سخت عذاب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب کے ہاں معذرت پیش کرنے کے لیے اور شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کر ہی لیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 7:163 سے 7:166 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details.

The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.