سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: البقرة 2:239

2:239
فان خفتم فرجالا او ركبانا فاذا امنتم فاذكروا الله كما علمكم ما لم تكونوا تعلمون ٢٣٩
فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًۭا ۖ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ ٢٣٩
فَاِنْ
خِفْتُمْ
فَرِجَالًا
اَوْ
رُكْبَانًا ۚ
فَاِذَاۤ
اَمِنْتُمْ
فَاذْكُرُوا
اللّٰهَ
كَمَا
عَلَّمَكُمْ
مَّا
لَمْ
تَكُوْنُوْا
تَعْلَمُوْنَ
۟
پھر اگر تم خطرے کی حالت میں ہو تو چاہے پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جب تم امن میں ہوجاؤ پھر اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تمہیں اس نے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اور اگر بالکل امن وامان کی حالت ہوجائے تو پھر نماز وہی ہے ، جس کی تعلیم دی ہے اور مزید انہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہئے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جن سے وہ واقف نہ تھے : فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ” اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھایا ہے ۔ جس سے پہلے تم واقف نہ تھے۔ “ لوگ جانتے ہی کیا تھے ، اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ سکھاتا ، اگر اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر لمحہ لمحہ ان کی راہنمائی نہ فرماتا۔

ازدواجی زندگی کے احکام اور طلاق کے احکام کے دوران ، نماز کی یہ سرسری بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس سے مقصود مسلمانوں کے دل میں عبادت اور بندگی کا وہ جامع تصور بٹھانا ہے جو اسلامی نظام زندگی کا اصل الاصول ہے یعنی امتثال امر عبادت ہے چناچہ پھر اصل موضوع یعنی عائلی احکام کو یہاں مکمل کردیا جاتا ہے :