سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الفرقان 25:58

25:58
وتوكل على الحي الذي لا يموت وسبح بحمده وكفى به بذنوب عباده خبيرا ٥٨
وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْحَىِّ ٱلَّذِى لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِۦ ۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا ٥٨
وَتَوَكَّلْ
عَلَی
الْحَیِّ
الَّذِیْ
لَا
یَمُوْتُ
وَسَبِّحْ
بِحَمْدِهٖ ؕ
وَكَفٰی
بِهٖ
بِذُنُوْبِ
عِبَادِهٖ
خَبِیْرَا
۟
اور آپ ﷺ توکلّ کیے رکھئے اس زندۂ جاوید ہستی پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 25:58 سے 25:60 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

’’رحمان کی بابت جاننے والے سے پوچھو‘‘— اس میں پوچھي جانے والی بات پر زور ہے، نہ کہ پوچھے جانے والے شخص پر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خدائے رحمان کے کرشموں کو جانے تو وہ تم کو بتائے گا کہ رحمن کی ذات کتنی بلند و برتر ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات میں جو تحقیق کی ہے وہ جزئی طورپر اس آیت کی مصداق ہے۔ سائنس دانوں کی تحقیقات سے کائنات کے جو بھید سامنے آئے ہیں وہ اتنے حیرت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور اس کا دل بے اختیار خالق کی عظمتوں کے آگے جھک جائے۔

’’چھ دن‘‘ سے مراد خدا کے چھ دن ہیں۔ انسان کی زبان میںاس کو چھ ادوار کہا جاسکتا ہے۔ چھ دوروں میں پیدا کرنا ظاہر کرتاہے کہ کائنات کی تخلیق منصوبہ بند طريقے سے ہوئی ہے۔ اور جو چیز منصوبہ اور اہتمام کے ساتھ وجود میں لائی جائے وہ کبھی عبث نہیں ہوسکتی ۔