سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحديد 57:13

57:13
يوم يقول المنافقون والمنافقات للذين امنوا انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نورا فضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب ١٣
يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورًۭا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍۢ لَّهُۥ بَابٌۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْمَةُ وَظَـٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ ١٣
یَوْمَ
یَقُوْلُ
الْمُنٰفِقُوْنَ
وَالْمُنٰفِقٰتُ
لِلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
انْظُرُوْنَا
نَقْتَبِسْ
مِنْ
نُّوْرِكُمْ ۚ
قِیْلَ
ارْجِعُوْا
وَرَآءَكُمْ
فَالْتَمِسُوْا
نُوْرًا ؕ
فَضُرِبَ
بَیْنَهُمْ
بِسُوْرٍ
لَّهٗ
بَابٌ ؕ
بَاطِنُهٗ
فِیْهِ
الرَّحْمَةُ
وَظَاهِرُهٗ
مِنْ
قِبَلِهِ
الْعَذَابُ
۟ؕ
جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھالیں۔ کہا جائے گا : لوٹ جائو پیچھے کی طرف اور تلاش کرو نور پھر ان کے درمیان ایک فصیل کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس (فصیل) کی اندرونی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یوم یقول ............ نور کم (75 : 31) ” اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ “ مومنین اور مومنات کا گروہ جدھر بھی دیکھتا ہے ادھر نورہی نور ہے۔ جو لطیف و شفاف ہے ، لیکن اس نور سے منافق مرد اور منافق عورتوں کا گروہ کس طرح استفادہ کرسکتا ہے ، انہوں نے تو پوری زندگی جہالت کی تاریکی میں بسر کی ہے۔ ایک نامعلوم آواز اس موقعہ پر پکارتی ہے۔

قیل ارجعوا ................ نورا (75 : 31) ” مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، ایک نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز ان تذلیل اور ان کے ساتھ مزاح کے لئے بلند ہوگی۔ اور ان کو یہ یاد دہانی مطلوب ہوگی کہ دنیا میں تم کیا کرتے تجھے رات کے اندھیروں میں اپنی منافقانہ پالیسی تیار کرتے رہتے تھے۔ کہ واپس جاؤ دنیا میں اور وہاں اپنا نور تلاش کرو۔ واپس جاؤ کیونکہ یہ نور تو دنیا سے آیا ہے۔ دنیا کے عمل سے یہ نور حاصل ہوتا ہے۔ آج تو تم دارالجزاء میں ہو یہاں کیا تلاش کرتے ہو۔

اس مرحلے میں اچانک مومنین اور مومنات کے گروہ اور منافقین اور منافقات کے گروہ کے درمیان جدائی کردی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ جدائی کا دن ہے۔ دنیا میں تو یہ لوگ اسلامی صفوں میں گھس گئے تھے۔

فضرب .................... العذاب (75 : 31) ” پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ “ یہ ایک ایسی دیوار ہوگی جس کے اس پار نظر تو نہ آئے گا لیکن آواز سنائی دے گی۔ اب منافقین کا گوہ مومنین کو پکارے گا۔