سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحديد 57:27

57:27
ثم قفينا على اثارهم برسلنا وقفينا بعيسى ابن مريم واتيناه الانجيل وجعلنا في قلوب الذين اتبعوه رافة ورحمة ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم الا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعايتها فاتينا الذين امنوا منهم اجرهم وكثير منهم فاسقون ٢٧
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأْفَةًۭ وَرَحْمَةًۭ وَرَهْبَانِيَّةً ٱبْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَـٰهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَـَٔاتَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ ٢٧
ثُمَّ
قَفَّیْنَا
عَلٰۤی
اٰثَارِهِمْ
بِرُسُلِنَا
وَقَفَّیْنَا
بِعِیْسَی
ابْنِ
مَرْیَمَ
وَاٰتَیْنٰهُ
الْاِنْجِیْلَ ۙ۬
وَجَعَلْنَا
فِیْ
قُلُوْبِ
الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُ
رَاْفَةً
وَّرَحْمَةً ؕ
وَرَهْبَانِیَّةَ
بْتَدَعُوْهَا
مَا
كَتَبْنٰهَا
عَلَیْهِمْ
اِلَّا
ابْتِغَآءَ
رِضْوَانِ
اللّٰهِ
فَمَا
رَعَوْهَا
حَقَّ
رِعَایَتِهَا ۚ
فَاٰتَیْنَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مِنْهُمْ
اَجْرَهُمْ ۚ
وَكَثِیْرٌ
مِّنْهُمْ
فٰسِقُوْنَ
۟
پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول ؑ اور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کردی۔ اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھا مگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں پھر وہ اس کی رعایت بھی نہ کرسکے جیسا کہ اس کی رعایت کرنے کا حق تھا۔ تو ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ان کا اجر دیا جو ایمان لے آئے۔ لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 57:26 سے 57:27 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اللہ کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی دین لے کر آئے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کے نام پر بدعتیں ایجاد کرلیں۔ اس کی ایک مثال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیرو ہیں۔ حضرت مسیح کے ذمہ صرف دعوت کا کام تھا۔ آپ کی پیغمبرانہ ذمہ داری میں قتال شامل نہ تھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے زیادہ داعیانہ اخلاق پر زور دیا۔ اور داعیانہ اخلاق سراسررافت و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ وہ لوگوں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر رافت و رحمت کا طریقہ اختیار کریں۔ مگر حضرت مسیح کے بعد آپ کے پیرو اس مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ ان کا یہ مزاج انہیں رہبانیت کی طرف بہا لے گیا۔ اعراض دنیا کی جو تعلیم انہیں دعوت کے مقصد سے دی گئی تھی اس کو انہوں نے مزید مبالغہ کے ساتھ ترک ِدنيا کے لیے اختیار کرنا شروع کردیا۔