سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحج 22:31

22:31
حنفاء لله غير مشركين به ومن يشرك بالله فكانما خر من السماء فتخطفه الطير او تهوي به الريح في مكان سحيق ٣١
حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِۦ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍۢ سَحِيقٍۢ ٣١
حُنَفَآءَ
لِلّٰهِ
غَیْرَ
مُشْرِكِیْنَ
بِهٖ ؕ
وَمَنْ
یُّشْرِكْ
بِاللّٰهِ
فَكَاَنَّمَا
خَرَّ
مِنَ
السَّمَآءِ
فَتَخْطَفُهُ
الطَّیْرُ
اَوْ
تَهْوِیْ
بِهِ
الرِّیْحُ
فِیْ
مَكَانٍ
سَحِیْقٍ
۟
یکسوُ ہوجاؤ اللہ کے لیے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اڑا پھینکے کسی دور دراز جگہ پر
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اس کائنات میں مرکزی قوت صرف ایک ہے۔ اور وہ خدائے واحد کی ذات ہے۔ جو شخص اپنے آپ کوخدا سے جوڑے اس نے اپنے ليے حقیقی ٹھکانا پالیا۔ وہ مضبوط زمین پر کھڑا ہوگیا۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنے آپ کو خدا سے نہ جوڑے یا ایسا ہو کہ وہ زبان سے خدا کا اقرار کرے مگر اپنا دلی تعلق کسی اور سے وابستہ رکھے۔ وہ گویا اس مرکز سے کٹا ہوا ہے جس کے سوا اس کائنات میں دوسرا کوئی مرکز نہیں۔ ایسے شخص کا حال اس انسان جیسا ہوگا جس کی ایک مثال اوپر کی آیت میں بتائی گئی ہے۔