سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحج 22:75

22:75
الله يصطفي من الملايكة رسلا ومن الناس ان الله سميع بصير ٧٥
ٱللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ رُسُلًۭا وَمِنَ ٱلنَّاسِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌۭ ٧٥
اَللّٰهُ
یَصْطَفِیْ
مِنَ
الْمَلٰٓىِٕكَةِ
رُسُلًا
وَّمِنَ
النَّاسِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
سَمِیْعٌ
بَصِیْرٌ
۟ۚ
اللہُ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی یقینا اللہ سب کچھ سننے و الا دیکھنے والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 22:75 سے 22:76 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اللہ یصطفی من ……الامور (67)

ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔

ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے بھی فروتر ہیں اور ان کی بندگی کی رسمیں کس قدر پوچ ہیں۔ امت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو ایک اعلیٰ اور برتر پیغام کے حامل ہو ، اس پیغام کو اور اس دعوت کو غالب کرنے کے لئے عبادات کرو اور جہاد کرو۔