سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحشر 59:15

59:15
كمثل الذين من قبلهم قريبا ذاقوا وبال امرهم ولهم عذاب اليم ١٥
كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًۭا ۖ ذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ١٥
كَمَثَلِ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
قَرِیْبًا
ذَاقُوْا
وَبَالَ
اَمْرِهِمْ ۚ
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟ۚ
(ان کا وہی حال ہوگا) جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 59:15 سے 59:17 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ وہ واقعات سے نصیحت نہیں لیتے۔ پہلے وہ جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کو مجرمانہ افعال پر ابھارتے ہیں۔ پھر جب اس کا بھیانک انجام سامنے آتا ہے تو وہ طرح طرح کے الفاظ بول کر یہ چاہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بری کرلیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتیں۔