سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحشر 59:5

59:5
ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها فباذن الله وليخزي الفاسقين ٥
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٥
مَا
قَطَعْتُمْ
مِّنْ
لِّیْنَةٍ
اَوْ
تَرَكْتُمُوْهَا
قَآىِٕمَةً
عَلٰۤی
اُصُوْلِهَا
فَبِاِذْنِ
اللّٰهِ
وَلِیُخْزِیَ
الْفٰسِقِیْنَ
۟
تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جن کو چھوڑ دیا ان کی جڑوں پر کھڑے تو یہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 59:3 سے 59:5 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

Those who opposed the Prophet were destined to suffer such punishment. During the siege of the Banu al-Nadir, some trees in their gardens were cut down as a matter of military strategy. This was done on the direct orders of the government. However, this was not the general rule. This was an exceptional case concerning the immediate addressees of the Prophet.