سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحجر 15:53

15:53
قالوا لا توجل انا نبشرك بغلام عليم ٥٣
قَالُوا۟ لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَـٰمٍ عَلِيمٍۢ ٥٣
قَالُوْا
لَا
تَوْجَلْ
اِنَّا
نُبَشِّرُكَ
بِغُلٰمٍ
عَلِیْمٍ
۟
انہوں نے کہا کہ ڈرئیے نہیں ہم آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 15:51 سے 15:56 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت ابراہیم کے پاس فرشتے انسانی صورت میںآئے۔ سوال وجواب کے دوران انھوںنے کہا کہ ہم حق کے ساتھ آئے ہیں۔ یہ حق (امر واقعی) کیا تھا جس کے لیے فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس آئے۔ یہ ایک غیر معمولی انعام کی بشارت تھی جس کی عام حالات میں توقع نہیں کی جاسکتی۔ انسان پر جب خدا کوئی غیر معمولی انعام کرنا چاہتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے وہ اس کے پاس خصوصی فرشتے بھیجتاہے۔

اس قسم کے فرشتے پیغمبروں کے پاس بھی آتے ہیں اور غیر پیغمبروں کے پاس بھی۔ فرق یہ ہے کہ پیغمبر کے پاس فرشتے آتے ہیں تو وہ ان کو دیکھتا ہے اور شعوری طورپر واقف ہوتا ہے کہ یہ فرشتے ہیں۔ مگر عام انسان کو اس قسم کا یقینی ادراک نہیں ہوتا۔ البتہ فرشتوں کی خصوصی قربت اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کردیتی ہے۔ یہ کیفیات گویا اس کا اشارہ ہوتی ہیں کہ اس وقت آدمی خداکے بھیجے ہوئے خصوصی فرشتوں کی صحبت میں ہے۔