سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحجر 15:73

15:73
فاخذتهم الصيحة مشرقين ٧٣
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ ٧٣
فَاَخَذَتْهُمُ
الصَّیْحَةُ
مُشْرِقِیْنَ
۟ۙ
تو انہیں آپکڑا ایک چنگھاڑنے اجالا ہونے کے وقت
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 15:73 سے 15:74 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت نمبر 73 تا 74

حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر جو عذاب آیا وہ بظاہر شدید زلزلے اور آتش فشانی کے مشابہ ہے ، جس میں گاؤں کے گاؤں دھنس جاتے ہیں ، جس میں پتھروں کی بارش بھی ہوتی ہے اور جس میں خاک آلود پتھر بھی ہوتے ہیں اور ہمہ گیر تباہی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے بحیرۂ لوط اس ہمہ گیر حادثے کے بعد نمودار ہوا ، اس وقت جب سدوم کی پوری کی پوری آبادی زمین میں دھنس گئی ، اور اس جگہ اس قدر بڑا گڑھا نمودار ہوا کہ وہاں پانی جمع ہو کر بحیرہ بن گیا۔

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی یہ بستیاں حجاز سے شام جاتے ہوئے شارع عام پر واقعہ تھیں اور ان کو دیکھ کر ہر عقل مند اور ذی بصیرت شخص عبرت حاصل کرسکتا ہے لیکن یہ تمام آیات و نشانات صرف ان دلوں کے لئے مفید ہوتے ہیں جن میں صلاحیت ہو اور جو ہدایت کے لئے کھلے ہوں اور جن میں حقیقی ایمانی نظریات موجود ہوں۔