سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحجرات 49:15

49:15
انما المومنون الذين امنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا باموالهم وانفسهم في سبيل الله اولايك هم الصادقون ١٥
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ ١٥
اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
بِاللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ
ثُمَّ
لَمْ
یَرْتَابُوْا
وَجٰهَدُوْا
بِاَمْوَالِهِمْ
وَاَنْفُسِهِمْ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الصّٰدِقُوْنَ
۟
مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر پھر شک میں ہرگز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ یہی لوگ ہیں جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 49:14 سے 49:15 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔