سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:101

17:101
ولقد اتينا موسى تسع ايات بينات فاسال بني اسراييل اذ جاءهم فقال له فرعون اني لاظنك يا موسى مسحورا ١٠١
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ ءَايَـٰتٍۭ بَيِّنَـٰتٍۢ ۖ فَسْـَٔلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهُۥ فِرْعَوْنُ إِنِّى لَأَظُنُّكَ يَـٰمُوسَىٰ مَسْحُورًۭا ١٠١
وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
مُوْسٰی
تِسْعَ
اٰیٰتٍ
بَیِّنٰتٍ
فَسْـَٔلْ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
اِذْ
جَآءَهُمْ
فَقَالَ
لَهٗ
فِرْعَوْنُ
اِنِّیْ
لَاَظُنُّكَ
یٰمُوْسٰی
مَسْحُوْرًا
۟
اور ہم نے موسیٰ کو نو واضح نشانیاں عطا کی تھیں تو ذرا پوچھیں بنی اسرائیل سے (اس زمانے کا حال) جب کہ موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تمہیں ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 17:101 سے 17:104 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔

حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔