سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:102

17:102
قال لقد علمت ما انزل هاولاء الا رب السماوات والارض بصاير واني لاظنك يا فرعون مثبورا ١٠٢
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَـٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًۭا ١٠٢
قَالَ
لَقَدْ
عَلِمْتَ
مَاۤ
اَنْزَلَ
هٰۤؤُلَآءِ
اِلَّا
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
بَصَآىِٕرَ ۚ
وَاِنِّیْ
لَاَظُنُّكَ
یٰفِرْعَوْنُ
مَثْبُوْرًا
۟
موسیٰ نے کہا : تجھے خوب معلوم ہے کہ نہیں نازل کیا ان (نشانیوں) کو مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے آنکھیں کھول دینے کے لیے اور اے فرعون ! میں تو تمہیں ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قال لقد ……(71 : 201) ” انہوں نے کہا ، تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں ، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے “۔ تو ہلاک ہونے والا اور تہس نہس ہونے والا ہے۔ کیونکہ تو آیات اہلیہ کی تکذیب کر رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ان خارق عادت معجزات کا صدور و ظہور نہیں کرسکتا۔ یہ نہایت ہی واضح اور بصیرت افروز نشانیاں ہیں۔ گویا یہ نشانیاں خود انکھیں ہیں جن کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اب یہ سرکش آدمی اپنی مادی قوت کا سارا لیتا ہے۔ اور یہ عزم کرتا ہے کہ وہ موسیٰ کو زمین سے نکال کر ان کی قوم کو تباہ برباد کردے گا۔