سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:25

17:25
ربكم اعلم بما في نفوسكم ان تكونوا صالحين فانه كان للاوابين غفورا ٢٥
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا۟ صَـٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًۭا ٢٥
رَبُّكُمْ
اَعْلَمُ
بِمَا
فِیْ
نُفُوْسِكُمْ ؕ
اِنْ
تَكُوْنُوْا
صٰلِحِیْنَ
فَاِنَّهٗ
كَانَ
لِلْاَوَّابِیْنَ
غَفُوْرًا
۟
تمہارا رب خوب واقف ہے اس سے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم واقعی نیک ہو گے تو وہ (اپنی طرف) رجوع کرنے والوں کے لیے بڑا بخشنے والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اس سے قبل کہ مزید احکام و ہدایات دی جائیں اور اخلاق و قوانین بنائے جائیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے ہر قول اور ہر فعل سے اللہ خبردار ہے۔ اور اس کا دروازہ کھلا ہے۔ ہر گناہ گار کسی بھی وقت توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ جب تک کسی انسان میں اسلاح کا مادہ موجود ہے ، وہ توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ ” اواب “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جب اس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے تو وہ جلدی اللہ کی طرف لوٹ آئے اور توبہ و استغفار کرے۔

والدین کے بعد اب قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ مساکین اور مسافر بھی شامل کردئیے جاتے ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے علاوہ انسانی روابط کے زمرے میں مساکین اور مسافر سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یوں حسن سلوک اور کفالت اجتماعی کے دائرے کو پوری انسانیت تک وسیع کردیا گیا ہے۔