سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:54

17:54
ربكم اعلم بكم ان يشا يرحمكم او ان يشا يعذبكم وما ارسلناك عليهم وكيلا ٥٤
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ ۖ إِن يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ أَوْ إِن يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًۭا ٥٤
رَبُّكُمْ
اَعْلَمُ
بِكُمْ ؕ
اِنْ
یَّشَاْ
یَرْحَمْكُمْ
اَوْ
اِنْ
یَّشَاْ
یُعَذِّبْكُمْ ؕ
وَمَاۤ
اَرْسَلْنٰكَ
عَلَیْهِمْ
وَكِیْلًا
۟
تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا یا اگر چاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا اور (اے نبی !) ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

بےقید علم اللہ ہی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جامع علم کی بنا پر لوگوں کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرے گا یا عذاب دے گا۔ جہاں تک رسول کا تعلق ہے تو لوگوں تک پیغام پہنچانے کے بعد اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے۔

اللہ کا جامع علم آسمان اور زمینوں کے درمیان موجود تمام مخلوقات کے ساتھ وابستہ ہے ، خواہ ملائکہ ہوں ، جن ہوں ، انس ہوں یا دوسری مخلوقات جن کو اللہ کے سوا ابھی تک کوئی نہیں جانتا۔ نہ اس مخلوق کی مقدار سے لوگ باخبر ہیں نہ اس کی اہمیت سے بیخبر ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارے میں مکمل ہے ، اس لئے اس نے اپنے علم ہی کی بنا پر بعض انبیاء پر بعض کو فضیلت دی ہے۔