سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:89

17:89
ولقد صرفنا للناس في هاذا القران من كل مثل فابى اكثر الناس الا كفورا ٨٩
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍۢ فَأَبَىٰٓ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورًۭا ٨٩
وَلَقَدْ
صَرَّفْنَا
لِلنَّاسِ
فِیْ
هٰذَا
الْقُرْاٰنِ
مِنْ
كُلِّ
مَثَلٍ ؗ
فَاَبٰۤی
اَكْثَرُ
النَّاسِ
اِلَّا
كُفُوْرًا
۟
اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں لیکن اکثر لوگ انکار (اور کفران نعمت) ہی پر اڑے ہوئے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 17:89 سے 17:93 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔