سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الإسراء 17:99

17:99
۞ اولم يروا ان الله الذي خلق السماوات والارض قادر على ان يخلق مثلهم وجعل لهم اجلا لا ريب فيه فابى الظالمون الا كفورا ٩٩
۞ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًۭا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّـٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورًۭا ٩٩
اَوَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّ
اللّٰهَ
الَّذِیْ
خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
قَادِرٌ
عَلٰۤی
اَنْ
یَّخْلُقَ
مِثْلَهُمْ
وَجَعَلَ
لَهُمْ
اَجَلًا
لَّا
رَیْبَ
فِیْهِ ؕ
فَاَبَی
الظّٰلِمُوْنَ
اِلَّا
كُفُوْرًا
۟
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پھر پیداکر دے اور اس نے مقرر کیا ہے ان کے لیے ایک وقت معین جس میں کوئی شک نہیں مگر ان ظالموں نے انکار ہی کیا سوائے کفر (اور کفران نعمت) کے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اولم یروا……(71 : 99) ” کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے “۔ لہٰذا بعثت بعد الموت میں کیا انہونی بات ہے ، اللہ اس عظیم کائنات کا خالق ہے۔ وہ ان جیسے آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ ان کو ختم کرکے دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔

وجعل ……(71 : 99) ” اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے “۔ میں ان کو مہلت دے رہا ہوں اور ان کا وقت مقرر ہے۔

فابی ……(71 : 99) ” مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے “۔ لہٰذا ان ظالموں کو جو سزا ہوگی وہ دلائل و مشاہدات اور آیات کی وضاحت کے اعتبار سے معقول ہوگی۔

یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ان معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور یہ مطالبات نہایت ہی نامعقول تھے مثلاً یہ کہ قیمتی دھاتوں کا مکان ، کھجوروں اور انگوروں کا باغ اور زمین سے پھاڑ کر چشمے نکالنا ، مگر تم لوگ خود اس قدر بخیل ہو کہ اگر اللہ کی رحمت کے خزانوں کی کنجیاں تمہیں دے دی جائیں تو ان میں سے کچھ بھی خرچ نہ کرتے اور ہاتھ روک لیتے کہ کہیں یہ خزانے ختم نہ ہوجائیں حالانکہ اللہ کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہوتے۔