سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الجاثية 45:36

45:36
فلله الحمد رب السماوات ورب الارض رب العالمين ٣٦
فَلِلَّهِ ٱلْحَمْدُ رَبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٣٦
فَلِلّٰهِ
الْحَمْدُ
رَبِّ
السَّمٰوٰتِ
وَرَبِّ
الْاَرْضِ
رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَ
۟
پس ُ کل تعریف اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 45:36 سے 45:37 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت نمبر 36 تا 37

اللہ کی بڑائی اور اللہ کی عظمت کا اعلان ہوتا ہے۔ آسمانوں میں بھی وہ بڑا ہے اور زمین میں بھی وہی بڑا ہے۔ انسانوں کا بھی وہ حاکم ہے اور جنوں کا بھی وہ حاکم ہے۔ وحوش و طیور کا بھی وہی خالق ہے ، غرض جو کچھ اس کائنات میں ہے وہ اللہ کا ہے سب کے سب ایک ہی رب کی نگرانی میں ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مدبر کائنات ہے اور رب کائنات ہے۔

اللہ کی ثنا اور کبریائی کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر بڑا چھوٹا ہوجاتا ہے اور ۔۔۔۔ یہاں گھٹنوں کے بل جھکا ہوا ہے۔ ہر سرکش یہاں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ رب مطلق اور اکبر مطلق کے سامنے۔

اس کبریائی ، اس ربوبیت ، اس قدرت اور اس حکمت اور اس تدبیر کے ساتھ غالب قرار پاتا ہے۔

وھو العزیز الحکیم (45 : 37) “ وہ زبردست اور دانا ہے ”۔ الحمد للہ رب العلمین !

٭٭٭٭