سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الكهف 18:17

18:17
۞ وترى الشمس اذا طلعت تزاور عن كهفهم ذات اليمين واذا غربت تقرضهم ذات الشمال وهم في فجوة منه ذالك من ايات الله من يهد الله فهو المهتد ومن يضلل فلن تجد له وليا مرشدا ١٧
۞ وَتَرَى ٱلشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ ٱلْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمْ فِى فَجْوَةٍۢ مِّنْهُ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ ۗ مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيًّۭا مُّرْشِدًۭا ١٧
وَتَرَی
الشَّمْسَ
اِذَا
طَلَعَتْ
تَّزٰوَرُ
عَنْ
كَهْفِهِمْ
ذَاتَ
الْیَمِیْنِ
وَاِذَا
غَرَبَتْ
تَّقْرِضُهُمْ
ذَاتَ
الشِّمَالِ
وَهُمْ
فِیْ
فَجْوَةٍ
مِّنْهُ ؕ
ذٰلِكَ
مِنْ
اٰیٰتِ
اللّٰهِ ؕ
مَنْ
یَّهْدِ
اللّٰهُ
فَهُوَ
الْمُهْتَدِ ۚ
وَمَنْ
یُّضْلِلْ
فَلَنْ
تَجِدَ
لَهٗ
وَلِیًّا
مُّرْشِدًا
۟۠
اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو ان کی غار سے داہنی طرف ہٹ جاتا اور جب وہ غروب ہوتا تو بائیں جانب ان سے کنی کترا جاتا اور وہ اس کی کھلی جگہ میں (لیٹے ہوئے) تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے تم نہیں پاؤ گے کوئی مدد گار راہ پر لانے والا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 18:17 سے 18:18 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہ عجیب مصورانہ منظر ہے ، غار کے اندر پڑے ہوئے نوجوانوں کی ہو بہو تصویر کشی کی گئی ہے۔ الفاظ کے ذریعے ایسی تصویر کشی جس طرح فلم چل رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور وہ ایک طرف ہو کر گزر جاتا ہے گویا وہ عمداً ایسا کر رہا ہے تو اور کا لفظ سورج کے طلوع کے عمل کے ساتھ ساتھ سورج کے ارادے کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کو چھوڑ کر دائیں طرف نکل جاتا ہے اور جب وہ غروب وہتا ہے کہ وہ شمال کی طرف ہو کر گزر جاتا ہے اور یہ لوگ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔

اس منظر کی تکمیل سے پہلے درمیان میں ایک قرآنی تبصرہ بھی آجاتا ہے۔ قرآن کا یہ مخصوص اسلوب کلام ہے کہ قصے کے درمیان مناسب جگہ پر انسانی دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔

ذلک من ایت اللہ (81 : 81) ” یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ “ ان کو غار میں یوں رکھنا ، سورج کی شعاعوں سے ان کو محفوظ رکھنا ، اور سورج کی روشنی ان کو فراہم کرنا اور غار کے اندر ان کو اس حال میں رکھنا کہ نہ مرتے ہیں اور نہ حرکت کرتے ہیں۔

من یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشداً (81 : 81) ” جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لئے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے۔ “ ہدایت اور ضلالت کے لئے ایک قانون قدرت اور ایک سنت الہیہ ہے جو شخص آیات الہیہ کو دیکھ کر ہدایت کی راہ لے ، اس کے ناموس قدرت کے تحت تو وہ حقیقی ہدایت ہوگا اور جس نے ہدایت کے اسباب ہی فراہم نہ کئے وہ گمراہ ہوا اور اس کی گمراہی بھی سنت الہیہ کے مطابق اور ناموس قدرت کے تحت ہوتی ہے اور اسے یوں اللہ ہی گمراہ کردیتا ہے اور پھر اس کا کوئی ولی مرشد نہیں ہوتا۔

اس درمیانی نوٹ کے بعد یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوتے میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ سو رہے ہیں اور ان کا کتا کتوں کی عادت کے مطابق اپنے باز و غار کے دہانے پر پھیلائے سو رہا ہے۔ گویا وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جو بھی ان کو دیکھے مرعوب ہو کر بھاگ اٹھے۔ کیونکہ وہ اس طرح سو رہے ہیں کہ جاگتے نظر آتے ہیں ، کروٹ بدل رہے ہیں اور جاگتے نہیں۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر ان کے بارے میں تاکید وہ اپنے مقررہ وقت تک یوں ہی رہیں۔

…

اچانک یہ لوگ جاگ اٹھتے ہیں۔ ان میں زندگی کی حرکت دوڑ رہی ہے دیکھو اور سنو اس نئیم نظر کو۔ “