سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الكهف 18:38

18:38
لاكنا هو الله ربي ولا اشرك بربي احدا ٣٨
لَّـٰكِنَّا۠ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّى وَلَآ أُشْرِكُ بِرَبِّىٓ أَحَدًۭا ٣٨
لٰكِنَّاۡ
هُوَ
اللّٰهُ
رَبِّیْ
وَلَاۤ
اُشْرِكُ
بِرَبِّیْۤ
اَحَدًا
۟
لیکن (میں تو مانتا ہوں کہ) وہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 18:36 سے 18:41 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔