سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الكهف 18:42

18:42
واحيط بثمره فاصبح يقلب كفيه على ما انفق فيها وهي خاوية على عروشها ويقول يا ليتني لم اشرك بربي احدا ٤٢
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّىٓ أَحَدًۭا ٤٢
وَاُحِیْطَ
بِثَمَرِهٖ
فَاَصْبَحَ
یُقَلِّبُ
كَفَّیْهِ
عَلٰی
مَاۤ
اَنْفَقَ
فِیْهَا
وَهِیَ
خَاوِیَةٌ
عَلٰی
عُرُوْشِهَا
وَیَقُوْلُ
یٰلَیْتَنِیْ
لَمْ
اُشْرِكْ
بِرَبِّیْۤ
اَحَدًا
۟
اور اس کا سارا ثمر سمیٹ لیا گیا تو وہ ہاتھ ملتا رہ گیا اس پر جو کچھ اس نے اس میں خرچ کیا تھا اور وہ (باغ) گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر اور وہ کہہ رہا تھا ہائے میری شامت کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 18:40 سے 18:45 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

The word: حُسبانا - (husbana) in verse 40 has been explained by Qatadah as 'punishment' in an absolute sense, by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as 'fire' and by some as 'stoning.' As for what appears after that in the Qur'an: أُحِيطَ بِثَمَرِ‌هِ (And its produce was struck by destruction from all sides - 42), it obviously means that some major calamity hit his gardens, wealth and things of luxury reducing everything to ruins. The Qur'an does not mention any particular calamity explicitly. It appears that, some fire came down from the skies and burnt the whole thing - as it appears in the Tafsir of 'husban' by Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ who has explained it as 'fire.' And Allah knows best.