سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الكهف 18:62

18:62
فلما جاوزا قال لفتاه اتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هاذا نصبا ٦٢
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَـٰذَا نَصَبًۭا ٦٢
فَلَمَّا
جَاوَزَا
قَالَ
لِفَتٰىهُ
اٰتِنَا
غَدَآءَنَا ؗ
لَقَدْ
لَقِیْنَا
مِنْ
سَفَرِنَا
هٰذَا
نَصَبًا
۟
پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ اپنے اس سفر سے تو ہمیں بہت تکان ہوگئی ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 18:61 سے 18:63 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔