سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المجادلة 58:10

58:10
انما النجوى من الشيطان ليحزن الذين امنوا وليس بضارهم شييا الا باذن الله وعلى الله فليتوكل المومنون ١٠
إِنَّمَا ٱلنَّجْوَىٰ مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ لِيَحْزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١٠
اِنَّمَا
النَّجْوٰی
مِنَ
الشَّیْطٰنِ
لِیَحْزُنَ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَلَیْسَ
بِضَآرِّهِمْ
شَیْـًٔا
اِلَّا
بِاِذْنِ
اللّٰهِ ؕ
وَعَلَی
اللّٰهِ
فَلْیَتَوَكَّلِ
الْمُؤْمِنُوْنَ
۟
یہ نجویٰ تو شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے حالانکہ یہ (شیطان) انہیں کچھ بھی ضرر پہنچانے پر قادر نہیں مگر اللہ کے اذن سے۔ اور اہل ایمان کو صرف اللہ پر توکل ّکرنا چاہیے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 58:9 سے 58:11 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔