سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الملك 67:28

67:28
قل ارايتم ان اهلكني الله ومن معي او رحمنا فمن يجير الكافرين من عذاب اليم ٢٨
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِىَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِىَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلْكَـٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ ٢٨
قُلْ
اَرَءَیْتُمْ
اِنْ
اَهْلَكَنِیَ
اللّٰهُ
وَمَنْ
مَّعِیَ
اَوْ
رَحِمَنَا ۙ
فَمَنْ
یُّجِیْرُ
الْكٰفِرِیْنَ
مِنْ
عَذَابٍ
اَلِیْمٍ
۟
(اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ اگر اللہ مجھے اور جو لوگ میرے ساتھ ہیں ان کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم کرے تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 67:25 سے 67:30 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

When the addressee is not convinced by reasoning, the preacher repeats his utterances of firm faith and thus stirs his inner self into awakening. Even if there is the slightest sensitivity in a man, these last utterances are enough to make him feel the urge to reform himself. But one whose conscience has been completely blunted, can never be awakened by any device.