سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المؤمنون 23:102

23:102
فمن ثقلت موازينه فاولايك هم المفلحون ١٠٢
فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ١٠٢
فَمَنْ
ثَقُلَتْ
مَوَازِیْنُهٗ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
۟
تو جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی فلاح پانے والے ہوں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 23:99 سے 23:108 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔

آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔