سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المؤمنون 23:107

23:107
ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظالمون ١٠٧
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـٰلِمُونَ ١٠٧
رَبَّنَاۤ
اَخْرِجْنَا
مِنْهَا
فَاِنْ
عُدْنَا
فَاِنَّا
ظٰلِمُوْنَ
۟
اے ہمارے پروردگار ! (ایک بار) ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم دوبارہ یہی کریں تو پھر ہم واقعی ظالم ہوں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 23:99 سے 23:108 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔

آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔