سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المؤمنون 23:27

23:27
فاوحينا اليه ان اصنع الفلك باعيننا ووحينا فاذا جاء امرنا وفار التنور فاسلك فيها من كل زوجين اثنين واهلك الا من سبق عليه القول منهم ولا تخاطبني في الذين ظلموا انهم مغرقون ٢٧
فَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ أَنِ ٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَإِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ ۙ فَٱسْلُكْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ مِنْهُمْ ۖ وَلَا تُخَـٰطِبْنِى فِى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ ۖ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ٢٧
فَاَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْهِ
اَنِ
اصْنَعِ
الْفُلْكَ
بِاَعْیُنِنَا
وَوَحْیِنَا
فَاِذَا
جَآءَ
اَمْرُنَا
وَفَارَ
التَّنُّوْرُ ۙ
فَاسْلُكْ
فِیْهَا
مِنْ
كُلٍّ
زَوْجَیْنِ
اثْنَیْنِ
وَاَهْلَكَ
اِلَّا
مَنْ
سَبَقَ
عَلَیْهِ
الْقَوْلُ
مِنْهُمْ ۚ
وَلَا
تُخَاطِبْنِیْ
فِی
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا ۚ
اِنَّهُمْ
مُّغْرَقُوْنَ
۟
تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری نگرانی اور وحی کی ہدایات کے مطابق ایک کشتی بنائیے پھر جب ہمارا حکم آن پہنچے اور تنور ابل پڑے تو اس میں رکھ لینا تمام مخلوق میں سے جوڑے اور اپنے گھر والوں کو بھی (سوار کرا لینا) سوائے ان کے جن کے بارے میں ان میں سے پہلے ہی بات طے ہوچکی ہے اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہ کرنا جنہوں نے شرک کیا یقیناً وہ سب غرق کردیے جائیں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 23:26 سے 23:27 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت نوح لمبی مدت تک اپنی قوم کو تلقین کرتے رہے۔ مگر ان کی قوم ان کی بات ماننے کے ليے تیار نہ ہوئی۔ آخر کار حضرت نوح نے دعا کی کہ خدایا، میری دعوت وتبلیغ ان سے امرحق کو منوا نہ سکی۔ اب توہی ان پر امر حق کو ظاہر کردے۔مگر جب انسانی عمل کی حد ختم ہو کر خدائی عمل کی حد شروع ہو تو یہ مواخذہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ وعظ و تلقین کا۔ چنانچہ خدا کا حکم ناقابل تسخیر طوفان کی صورت میں ظاہر ہواا ور چند مومنین نوح کو چھوڑ کر بقیہ ساری قوم غرق ہو کر رہ گئی۔

امر حق کا اعتراف نہ کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اس ظلم کا ارتکاب کریں وہ ہمیشہ خدا کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ کوئی دوسری چیز انھیں اس پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔