سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المؤمنون 23:50

23:50
وجعلنا ابن مريم وامه اية واويناهما الى ربوة ذات قرار ومعين ٥٠
وَجَعَلْنَا ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةًۭ وَءَاوَيْنَـٰهُمَآ إِلَىٰ رَبْوَةٍۢ ذَاتِ قَرَارٍۢ وَمَعِينٍۢ ٥٠
وَجَعَلْنَا
ابْنَ
مَرْیَمَ
وَاُمَّهٗۤ
اٰیَةً
وَّاٰوَیْنٰهُمَاۤ
اِلٰی
رَبْوَةٍ
ذَاتِ
قَرَارٍ
وَّمَعِیْنٍ
۟۠
اور ہم نے ابن مریم (عیسی ؑ ٰ) اور اس کی والدہ (مریم) کو ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچے ٹیلے پر پناہ دی جو پرسکون اور چشموں والی جگہ تھی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 23:49 سے 23:50 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ولقد معین (آیت نمبر 49 تا 50)

اس آیات میں جس ربوہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ کہاں ہے ۔ آیا یہ مصر میں یا دمشق میں تھا بیت المقدس میں تھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں حضرت مریم اپنے بچے کو لے کرگئی تھیں ، حضرت عیسیٰ کے بچپن میں۔ عیسائیوں کی کتابوں میں مفصل تذکرے موجود ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ ربوہ کہا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ مریم اور ابن مریم کو اللہ نے اسے پورے عرصہ میں نہایت ہی پاکیزہ مقام پر رکھا۔ یہ مقام سر سبز تھا ۔ پانی عام تھا اور وہ یہاں بہت ہی خوشی اور آرام سے رہتے تھے۔

بات یہاں تک آپہنچی ہے تو تمام رسولوں کی اس امت اور جماعت سے اللہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ گویا وہ پوری جماعت ایک ہی میدان اور ایک مشن اور دعوت کے اعتبار سے وہ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔