سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المزمل 73:14

73:14
يوم ترجف الارض والجبال وكانت الجبال كثيبا مهيلا ١٤
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلْأَرْضُ وَٱلْجِبَالُ وَكَانَتِ ٱلْجِبَالُ كَثِيبًۭا مَّهِيلًا ١٤
یَوْمَ
تَرْجُفُ
الْاَرْضُ
وَالْجِبَالُ
وَكَانَتِ
الْجِبَالُ
كَثِیْبًا
مَّهِیْلًا
۟
جس دن کہ زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے بکھرتے تودے بن جائیں گے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یوم ترجف ........................ مھیلا (73:14) ” یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے او پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں “۔ یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر بکھرے جارہے ہیں “۔ یہ ہے اس دن کی ہولناکی ، اس کی زد میں یہ وسیع زمین بھی آرہی ہے۔ یہ زمین لرز رہی ہے ، ٹکڑے ٹکڑے ہورہی ہے ، یہ انسان تو نہایت ہی کمزور اور حقیر ہیں۔ بڑے بڑے کر ات ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔

اب رخ ذرا ان صاحبان نعمت کی طرف ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ فرعون بڑا جبار تھا ، لیکن اس کا جو انجام ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔ قیامت کا ہول تو تم نے دیکھ لیا اور ذرا فرعون کے اس دنیاوی انجام کو بھی دیکھ لو۔