سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المزمل 73:15

73:15
انا ارسلنا اليكم رسولا شاهدا عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولا ١٥
إِنَّآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْكُمْ رَسُولًۭا شَـٰهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًۭا ١٥
اِنَّاۤ
اَرْسَلْنَاۤ
اِلَیْكُمْ
رَسُوْلًا ۙ۬
شَاهِدًا
عَلَیْكُمْ
كَمَاۤ
اَرْسَلْنَاۤ
اِلٰی
فِرْعَوْنَ
رَسُوْلًا
۟ؕ
(اے لوگو !) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول ﷺ بھیج دیا ہے تم پر گواہ بنا کر۔ جیسے کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف بھی ایک رسول۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 73:15 سے 73:16 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :