سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القلم 68:44

68:44
فذرني ومن يكذب بهاذا الحديث سنستدرجهم من حيث لا يعلمون ٤٤
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ٤٤
فَذَرْنِیْ
وَمَنْ
یُّكَذِّبُ
بِهٰذَا
الْحَدِیْثِ ؕ
سَنَسْتَدْرِجُهُمْ
مِّنْ
حَیْثُ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟ۙ
تو (اے نبی ﷺ !) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 68:42 سے 68:45 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔