سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القيامة 75:38

75:38
ثم كان علقة فخلق فسوى ٣٨
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ٣٨
ثُمَّ
كَانَ
عَلَقَةً
فَخَلَقَ
فَسَوّٰى
۟ۙ
پھر وہ ایک علقہ بنا پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 75:31 سے 75:40 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔