سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النحل 16:110

16:110
ثم ان ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا ان ربك من بعدها لغفور رحيم ١١٠
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَـٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١١٠
ثُمَّ
اِنَّ
رَبَّكَ
لِلَّذِیْنَ
هَاجَرُوْا
مِنْ
بَعْدِ
مَا
فُتِنُوْا
ثُمَّ
جٰهَدُوْا
وَصَبَرُوْۤا ۙ
اِنَّ
رَبَّكَ
مِنْ
بَعْدِهَا
لَغَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟۠
پھر یقیناً آپ کا رب ان کے حق میں جنہوں نے ہجرت کی اس کے بعد کہ انہیں تکالیف پہنچائی گئیں پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا یقیناً آپ کا رب اس (سب کچھ) کے بعد بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 16:110 سے 16:113 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

انسانوں کی کوئی آبادی اطمینان کی حالت میں ہو اور اس کے درمیان رزق کی فراوانی ہو۔ پھر خدا اپنے کسی بندے کو ان کے درمیان کھڑا کرے جوان کو حق کی طرف بلائے تو ایسی حالت میں ہمیشہ دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یاتو یہ آبادی حق کو قبول کرکے مزید خدائی انعامات کی مستحق بنے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر یہ ہوتا کہ اس پر طرح طرح کے حادثات گزرتے ہیں۔ یہ حادثات اس کے حق میں خدائی عذاب نہیں ہوتے بلکہ خدائی تنبیہات ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ چوکنے ہوجائیں۔ ان کی حساسیت جاگے اور وہ خدا کے داعی کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اگر اس قسم کی تنبیہات کار گر نہ ہوں تو دعوت کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اس قوم کو ہلاک کردیا جائے تاکہ وہ آخرت کے عالم میں پہنچ کر اپنے ابدی انجام کو بھگتے۔