سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النحل 16:115

16:115
انما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فان الله غفور رحيم ١١٥
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١١٥
اِنَّمَا
حَرَّمَ
عَلَیْكُمُ
الْمَیْتَةَ
وَالدَّمَ
وَلَحْمَ
الْخِنْزِیْرِ
وَمَاۤ
اُهِلَّ
لِغَیْرِ
اللّٰهِ
بِهٖ ۚ
فَمَنِ
اضْطُرَّ
غَیْرَ
بَاغٍ
وَّلَا
عَادٍ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مردار خون خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی مجبور ہوجائے (لیکن) نہ وہ طالب ہو نہ حد سے بڑھنے والا تو اللہ یقیناً بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 16:114 سے 16:115 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اس آیت کا تعلق روز مرّہ کھانے والی چیزوں سے ہے۔ خدا نے جو قابلِ خوراک چیزیں پیدا کی ہیں، ان میں چند متعین چیزوں کو چھوڑ کر بقیہ سب انسان کے لیے حلال ہیں۔ تاہم قدیم مشرک انسان نے یہ کیا کہ خدا کی حلال کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حرام کرلیا۔ جدید ملحد انسان نے اس کے برعکس یہ کیا ہے کہ خدا کی حرام کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حلال ٹھہرا لیا۔ یہ دونوں چیزیں اس روح کی قاتل ہیں جس کو غذائی نعمتوں کے ذریعے انسان کے اندر پیدا کرنا مقصود ہے۔

غذا انسان کی تمام ضرورتوں میں سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے جس کا ہر انسان کو صبح وشام تجربہ ہوتا ہے۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ آدمی جب غذا کا استعمال کرے تو وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر کھائے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ مگر انسان نے پورے معاملہ کو الٹ دیا۔

قدیم مشرکانہ دور میں اس نے ان غذاؤں کو دیوتاؤں کے ساتھ منسوب کیا اور اس طرح ان کو خدا کے بجائے دیوتاؤں کی یاد کا ذریعہ بنا دیا۔ جدید ملحدانہ زمانہ میں یہ ہوا ہے کہ انسان نے سارے معاملہ کو اپنی لذتِ نفس کے تابع کردیا۔ اس نے خدا کی حرام غذاؤں کو بھی اپنے لیے حلال ٹھہرالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی پیداکی ہوئی چیزیں اس کے لیے صرف اپنی لذت کا دسترخوان بن کر رہ گئیں۔

مجبوری کی حالت میں اگر کوئی شخص خداکے غذائی قانون کو بدلے تو وہ ندامت کے جذبے کے تحت ایسا کرے گا، نہ کہ سرکشی کے جذبہ کہ تحت۔ اس لیے اس سے نفسیاتِ انسانی میں کوئی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں۔