سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النمل 27:16

27:16
وورث سليمان داوود وقال يا ايها الناس علمنا منطق الطير واوتينا من كل شيء ان هاذا لهو الفضل المبين ١٦
وَوَرِثَ سُلَيْمَـٰنُ دَاوُۥدَ ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِينُ ١٦
وَوَرِثَ
سُلَیْمٰنُ
دَاوٗدَ
وَقَالَ
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
عُلِّمْنَا
مَنْطِقَ
الطَّیْرِ
وَاُوْتِیْنَا
مِنْ
كُلِّ
شَیْءٍ ؕ
اِنَّ
هٰذَا
لَهُوَ
الْفَضْلُ
الْمُبِیْنُ
۟
اور وارث ہوا سلیمان ؑ داؤد ؑ کا اور اس نے کہا : اے لوگو ! ہمیں سکھا دی گئی ہیں پرندوں کی بولیاں اور ہمیں (اللہ کی طرف سے) ہرچیز عطا کی گئی ہے۔ یقیناً یہ (اللہ کا) بہت واضح فضل ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:15 سے 27:16 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام بھی پیغمبر اور بادشاہ ہوئے۔ آپ کی سلطنت فلسطین اور شرق اردن سے لے کر شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی صنعتی معلومات دی تھیں۔ نیز آپ کو معجزاتی طور پر کئی چیزیں عطا ہوئی تھیں۔ مثلاً چڑیوں کی بولیاں سمجھنا۔ اور ان کو تربیت دے کر انھیں خبر رسانی وغیرہ کے ليے استعمال کرنا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے ہم زمانہ لوگوں پر غیر معمولی برتری حاصل تھی۔ مگر اس برتری نے ان کے اندر صرف تواضع کا جذبہ پیدا کیا۔ انھیں جو کچھ حاصل تھا اس کو انھوں نے براہِ راست خدا کا عطیہ قرار دیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ سلطنت 965 ق م سے لے کر 926 ق م تک ہے۔ اس لحاظ سے آپ تقریباً چالیس سال حکمراں رہے۔