سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النور 24:16

24:16
ولولا اذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا ان نتكلم بهاذا سبحانك هاذا بهتان عظيم ١٦
وَلَوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَـٰذَا سُبْحَـٰنَكَ هَـٰذَا بُهْتَـٰنٌ عَظِيمٌۭ ١٦
وَلَوْلَاۤ
اِذْ
سَمِعْتُمُوْهُ
قُلْتُمْ
مَّا
یَكُوْنُ
لَنَاۤ
اَنْ
نَّتَكَلَّمَ
بِهٰذَا ۖۗ
سُبْحٰنَكَ
هٰذَا
بُهْتَانٌ
عَظِیْمٌ
۟
اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تو تم کہتے کہ ہمارے لیے جائز نہیں ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں (اور کہتے کہ) اے اللہ ! ُ تو پاک ہے یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

(ولو لآ۔۔۔۔۔۔۔ عظیم) (24 : 16) ” کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا ‘ سبحان اللہ یہ تو بہتان عظیم ہے۔ جب یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں اتار دی جاتی ہے کہ لوگوں سے کس قدر عظیم کوتاہی ہونی ہے اور دلوں کو اچھی طرح جھنجھوڑ دیا جاتا ہے۔ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ان سے کس قدر عظیم کوتاہی ہوئی ہے تو پھر لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ دیکھو آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔ یہ تم نے بہت ہی عظیم جرم کیا ہے ۔