سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النور 24:64

24:64
الا ان لله ما في السماوات والارض قد يعلم ما انتم عليه ويوم يرجعون اليه فينبيهم بما عملوا والله بكل شيء عليم ٦٤
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ ٦٤
اَلَاۤ
اِنَّ
لِلّٰهِ
مَا
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
قَدْ
یَعْلَمُ
مَاۤ
اَنْتُمْ
عَلَیْهِ ؕ
وَیَوْمَ
یُرْجَعُوْنَ
اِلَیْهِ
فَیُنَبِّئُهُمْ
بِمَا
عَمِلُوْا ؕ
وَاللّٰهُ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمٌ
۟۠
آگاہ ہوجاؤ ! یقیناً اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ وہ خوب جانتا ہے تم جس حال پر ہو اور جس دن یہ لوگ لوٹائے جائیں گے اس کی طرف تو وہ انہیں جتلا دے گا جو کچھ بھی عمل انہوں نے کیے ہوں گے اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

(الآ ان للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیم) (24 : 63) ” “۔

یوں اس سورة کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی نظریں اللہ سے متعلق ہوجاتی ہیں اور ان کو اللہ کے خوف اور خثیت سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ صرف خدا اور خشیت الٰہی اور تقویٰ انسان کو درست رکھنے کی آخری گارنٹی ہے۔ اللہ نے جو احکام اور نواہی دیئے ہیں ان پر عمل کرانے کا یہ آخری نگران ہے جو ہر مومن کے دل میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس سورة میں جو اخلاق ‘ جو آداب اور جو قوانین وضع کیے گیے ہیں اور سب کو اسلامی نظام کا برابر حصہ بنایا گیا ہے ان کا محافظ تقویٰ اور خدا خوفی کو قرار دیا گیا ہے۔