سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:118

37:118
وهديناهما الصراط المستقيم ١١٨
وَهَدَيْنَـٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ ١١٨
وَهَدَیْنٰهُمَا
الصِّرَاطَ
الْمُسْتَقِیْمَ
۟ۚ
اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:114 سے 37:122 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔

اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔