سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:158

37:158
وجعلوا بينه وبين الجنة نسبا ولقد علمت الجنة انهم لمحضرون ١٥٨
وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبًۭا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ١٥٨
وَجَعَلُوْا
بَیْنَهٗ
وَبَیْنَ
الْجِنَّةِ
نَسَبًا ؕ
وَلَقَدْ
عَلِمَتِ
الْجِنَّةُ
اِنَّهُمْ
لَمُحْضَرُوْنَ
۟ۙ
اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔ حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:158 سے 37:159 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

وجعلوا بینہ۔۔۔۔۔ انھم لمحضرون (158) ” ، “۔ ان کا زعم یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں تھیں اور ان سے جن پیدا ہوئے یوں جنوں اور اللہ کے درمیان قرابت ہوگئی۔ جنوں کو تو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں۔ اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے حاضر کیے جائیں گے اور رشتہ داروں کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں کیا جاتا کہ وہ بطور مجرم پکڑے جاکر پیش کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ اس عقیدے کی تردید بھی کردی جاتی ہے