سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:159

37:159
سبحان الله عما يصفون ١٥٩
سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ١٥٩
سُبْحٰنَ
اللّٰهِ
عَمَّا
یَصِفُوْنَ
۟ۙ
اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:158 سے 37:166 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔

انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔