سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: السجدة 32:29

32:29
قل يوم الفتح لا ينفع الذين كفروا ايمانهم ولا هم ينظرون ٢٩
قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِيمَـٰنُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ ٢٩
قُلْ
یَوْمَ
الْفَتْحِ
لَا
یَنْفَعُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اِیْمَانُهُمْ
وَلَا
هُمْ
یُنْظَرُوْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ہی (اس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 32:29 سے 32:30 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔

اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔