سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:121

26:121
ان في ذالك لاية وما كان اكثرهم مومنين ١٢١
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ١٢١
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیَةً ؕ
وَمَا
كَانَ
اَكْثَرُهُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ
۟
یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:116 سے 26:122 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت نوح صدیوں تک اپنی قوم کے لوگوں کو حق کی طرف بلاتے رہے۔ مگر انھوںنے آپ کی بات نہ مانی۔ حتی کہ آخر کار انھوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر نوح کو پتھر ماریں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور پھر صبح وشام ان کی بات سننے سے نجات مل جائے۔ جب قوم اس حد کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا کہ اب اس قوم کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ ہے جو حضرت نوح کی دعا کی شکل میں ظاہر ہوا۔

اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی، اس میں حضرت نوح کے تمام ساتھی اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا رکھ لیا گیا۔ اس کےبعد اللہ نے شدید طوفان بھیجا۔ زمین سےپانی ابلنے لگا اور اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ کشتی کے سوا ساری زندہ مخلوق فنا ہوگئی۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دنیا میں نجات سچے اہل ایمان کے ليے ہے اور باقی لوگوں کے ليے یہاں ہلاکت کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔