سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:145

26:145
وما اسالكم عليه من اجر ان اجري الا على رب العالمين ١٤٥
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٤٥
وَمَاۤ
اَسْـَٔلُكُمْ
عَلَیْهِ
مِنْ
اَجْرٍ ۚ
اِنْ
اَجْرِیَ
اِلَّا
عَلٰی
رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَ
۟ؕ
اور میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میری اجرت تو تمام جہانوں کے رب ہی کے ذمے ّ ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:141 سے 26:152 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

عاد کے بعد دوسری قوم جس کو عروج ملا وہ ثمود کی قوم تھی (الاعراف، 7:74 )۔اس قوم کی آبادیاں خیبر اور تبوک کے درمیان اس علاقہ میں تھیں جس کو الحجر کہاجاتا ہے۔ اس قوم کو بھی زبردست خوش حالی اور غلبہ حاصل ہوا۔مگر اس کے افراد کی بھی ساری توجہ دوبارہ صرف مادی ترقی کی طرف لگ گئی۔ پہاڑوں کو کاٹ کر بڑے بڑے مکان بنانے کا فن غالباً اسی قوم نے شروع کیا۔ جس کی زیادہ ترقی یافتہ صورت اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی شکل میں پائی جاتی ہے۔

ہر شخص اور ہر گروہ جس کو دنیا کا سازوسامان ملتا ہے وہ اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ یہ سب اس کا حق ہے اور وہ جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ مگر یہ سب سے بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا اسباب صرف امتحان کی مدت تک کے ليے ہے۔ اس کے بعد وہ اس طرح چھین لیا جائے گا کہ آدمی کے پاس ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔

حد سے گزرنے والا (مسرف) وہ شخص ہے جس کے پاس دولت آئے تو وہ شکر کے بجائے فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ وہ اقتدار پائے تو تواضع کے بجائے گھمنڈ کرنے لگے۔ اس کو عہدہ دیا جائے تو وہ اس کو خدمت کے بجائے اپنانام بلند کرنے کے ليے استعمال کرے۔ مواقع کے یہی غلط استعمالات ہیں جو معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ قوم ثمود کے بڑے لوگ اسی قسم کے اسراف میں مبتلا تھے۔ اور ان کے عوام ان کی پیروی کررہے تھے ۔ پیغمبر نے انھیں متنبہ کیا کہ یہ لوگ جن کو تم بڑا سمجھتے ہو وہ تو خود بے راہ ہیں پھر وہ تم کو کیسے راستہ دکھائیں گے۔